نئی دہلی، 26 نومبر ( آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) منی لانڈرنگ معاملات میں ضمانت دینے کی سخت شرائط کو سپریم کورٹ کے منسوخ کرنے کے بعد اس طرح کے معاملات میں جیل میں بند کئی ملزم نچلی عدالتوں میں پہنچ کر ضمانت کی نئی کوششوں میں لگ گئے ہیں ۔ واضح ہو کہ ماقبل میں ان کی ضمانت عرضیاں مسترد کی جاچکی تھیں۔
سپریم کورٹ کے 23 نومبر کے حکم سے پرجوش مبینہ کاروباری محمد اسلم وانی، دہلی کے دو تاجر برادران سریندر کمار جین اور وریندر جین سمیت کئی ملزم ضمانت کی نئی کو شش کے تحت عدالت پہنچ گئے ۔ اسلم وانی کو کشمیر علیحدگی پسند رہنما شبیر شاہ سے منسلک منی لانڈرنگ کے ایک معا ملہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ منی لانڈرنگ روک تھام ایکٹ، 2002 کی دفعہ 45 کی شرط تھی کہ منی لانڈرنگ کی صورت میں کسی ملزم کو صرف اس صورت میں ضمانت دی جا سکتی ہے جب سرکاری وکیل کو ضمانت عرضی کی مخالفت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت اس بات سے مطمئن ہو جاتی ہے کہ جیل میں بند شخص مجرم نہیں ہے اور وہ ضمانت کے دوران دیگر جرائم کا ارتکاب نہیں کرے گا۔عدالت عظمی نے ان دونوں پابندیوں کی حد تک اس شق کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ یہ واضح طورپر من مانی اورغیر آئینی ہے ؛کیونکہ یہ ملزمان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔امید کی کرن پیدا کرتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ جن معاملات میں دفعہ 45 کی شرائط کی وجہ سے ضمانت نہیں دی گئی ہے، وہ تمام معاملے ا ن ہی عدالتوں میں واپس جائیں گے جن عدالتوں نے ماضی میں ایسی عرضیاں مسترد کر دی تھی۔ضمانت کی درخواست میں اچانک اضافہ کے بعد ای ڈی نے اپنے انکوائری افسران سے اس طرح کے معاملات میں رپورٹ مانگی ہے. ڈائریکٹوریٹ منی لانڈرنگ معاملوں کی تفتیش کرتا ہے ۔ ایڈی کے خصوصی سرکاری وکیل نتیش رانا ملزمان کے ضمانت درخواستوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اب ان سے ڈھیروں ایسی نئی عرضیوں کے سلسلے میں جواب مانگا گیا ہے۔ای ڈی نے حال ہی میں جین برادران سے منسلک منی لانڈرنگ معاملے کی جانچ کے سلسلے میں راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد کی بیٹی میسا بھارتی اور ان کے شوہر کے فارم ہاؤسز پر چھاپہ مارا تھا۔ جین برادران پر90کھوکھاکمپنیوں کے ذریعہ منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔دہلی کی ایک عدالت نے اسلم وانی کی ضمانت عرضی پر ای ڈی سے27نومبر تک جواب مانگا ہے۔ ایک اور عدالت نے جانچ ایجنسی کو جین برادران کی عرضیوں پر 29 نومبر تک جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے ۔